4 دسمبر 2017 - 19:57
اسوہ رسول صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم اور ہمارا معاشرہ

نبوت کا یہ شاہکار چراغ اور روشن ستارے اپنی تمام تر روشنیوں کے ساتھ حیات انسانی کے ہر شعبوں میں، ہر جھت اور ہرہر پہلو میں مینارہ نور بن کر اسوہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکل میں بنی نوع انسان کی صحیح رہنمائی کے لئے اپنے تمام تر برکاۃ و فیوضات کے ساتھ موجود ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی معاشرے کی بنیاد دو ہی چیزوں پر استوار ہے  اگر یہ دونوں یا ان میں سے ایک کسی معاشرے میں نہ ہو تو اس معاشرے کو اسلامی معاشرہ نہیں کہاجا سکتا، اور وہ دو چیزیں ہیں قرآن  اور پیغمبر اسلام کی سیرت۔ قرآن نوع انسانی کےلئے ایک دستور حیات ہے تو پیغمبر اسلام صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات اقدس نمونہ عمل ہے۔قرآن ایک قانوں کا مجموعہ ہے تو پیغمبر اسلام کی ذات اقدس مجسمہ قانوں ہے۔خود قرآن مجید میں اللہ رب العزت ارشاد فرما رہے ہیں  "لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ  حسنہ"(سورہ الاحزاب21) یعنی اللہ کے رسول میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ سیرت پیغمبر عالم انسانیت کے لئے ایک عظیم مشعل راہ  اور نمونہ عمل ہے   آپ کے ہر قول و فعل  اور تمام کردار ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی ذات  گرامی وہ فرد اکمل واتم  ہیں جس میں اللہ رب العزت نے وہ تمام صفات و کمالات جاگزین کئے ہیں جو حیات انسانی  کے لئے ایک مکمل لائحہ عمل بن سکتے ہیں کیونکہ آپ  صلیٰ اللہ علیہ والہ  وسلم  ہی  کی ذات گرامی کو عرب کےاس جھالت  سے پر  معاشرے میں کردار وگفتار اور اخلاقیات میں بہت ہی اعلیٰ مقام حاصل تھا اور سب لوگوں سے ممتاز تھے، لوگ آپ کو صادق و امین کہہ کر پکارتے تھے۔آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ بامروت  اور خوش اخلاق تھے ۔اللہ  رب العزت  فرماتے ہیں   "انک لعلیٰ خلق عظیم"(قرآن) اے حبیب  آپ اخلاق کے عظیم درجے پر  ہیں۔ اور آپ سب سے زیادہ پاکدامن ،راست گو، سب سے زیادہ نرم پہلو، دوراندیش اور سب سے زیادہ پابند عہد و امانتدار تھے۔

نبوت کا یہ شاہکار چراغ اور روشن ستارے اپنی تمام تر روشنیوں کے ساتھ حیات انسانی کے ہر شعبوں میں، ہر جھت اور ہرہر پہلو میں مینارہ نور بن کر اسوہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکل میں بنی نوع انسان کی صحیح رہنمائی کے لئے اپنے تمام تر برکاۃ و فیوضات کے ساتھ موجود ہے جس کی پیروی سے انسان اپنی ھدایت اور رہنمائی کا سامان فراہم کرسکتا ہے یعنی جس سے انفرادی اور اجتماعی پاکیزگی  ہوتی ہے  جس سے ایک پاکیزہ  اور جرائم سے پاک  سماج پروان چڑھتا ہے۔ اللہ رب العزت نے یہ واضح کردیا اور کامیابی و کامرانی کے متلاشی انسانوں کو یہ خبر دے دی کہ تمہارے لئے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات بہترین نمونہ ہے۔ اس لئے ھدایت  کےمتلاشی لوگوں کو چاہیے کہ زندگی کے ہر معاملے میں یعنی حرکت و سکون، رہن سہن، سیادت و قیادت، اخلاق و کردار ، معاشرت ، معیشت و تجارت ، صبر و قناعت ، زھد و عبادت، مروت اور شجاعت، بلکہ ہرہر عمل کے اندر کامیابی و کامرانی کے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات اقدس کو بطور نمونہ پیش نظر رکھیں۔ دنیا و اخرت میں  فلاح اور کامیابی اسی سے متمسک ہے۔ معاشرہ میں امن و سکوں کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک اسوہ رسول کہ نہ اپنائے۔ پیغمبر اسلام  کے وجود اقدس کا مقصد اور ہدف بھی ایک پرامن اور  پرسکون معاشرے کا قیام تھا جس میں سب انسان برابر ہو ایک دوسرے کااحترام ہو ، رواداری ہو ۔اس کے لئے آپ صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم نے ہر قسم کی قربانی پیش کی ۔آپ صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم  نے ساری زندگی تحمل ، برداشت اور رواداری کا درس  دیا اورایسا سماج قیام عمل میں لایا جہاں امن وسکون تھا ، جھان رواداری تھی ، جھاں برداشت تھی جھاں مسلماں ہی کے  نہیں بلکہ غیر مسلموں کے حقوق کو بھی تحفظ حاصل تھا ۔صر ف انسانوں سے نہیں بلکہ آپ ص  نے  جانوروں کے حقوق کو بھی  ادا کرنے  کا درس دیا۔یہ سب تعلیمات محمدی تھی جس  پر آج کا مسلمان  معاشرہ عمل پیرا نہیں ۔ ہمارے سماج میں برداشت ، رواداری ، اخوت اور  مذہبی  ہم اہنگی نہیں اس کے علاوہ ہزاروں کے حساب سے ایسے ایسے جرائم اور واقعات  ہماری سماج میں رونما ہورہے ہیں جو کسی غیر  مسلم معاشرے میں بھی نہیں ہوتے ۔ کسی عالم دین نے یہ خوب فرما یا کہ یورپ میں اسلام ہے مسلمان نہیں ہے  یعنی وہاں رواداری  ہے ،برداشت ہے ، احترام انسانیت ہے  ایک دوسرے کوکافر قرار نہیں دیتے قانوں پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے ، عدالت اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوے جلد انصاف فراہم کرتے ہیں  جبکہ اسکے برعکس مسلم معاشرے جو مشرق وسطی  ، افریقہ اور ایشیاء    کے بیشتر حصے پر مشتمل ہے  جن میں مسلمان ہیں اسلام نہیں ہے  یعنی  زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کردار وگفتار میں اسلام نظر نہیں اتا۔یہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑاالمیہ ہے۔ہم سب پیغمبر اسلام (ص)کی محبت کا دم بھرتے  نہیں تھکتے،حال ہی میں اسلام آباد میں انتخابی قوانین میں ختم نبوت شق میں تبدیلی کے خلاف ایک تنظیم نے دھرنا دیا اور بعض مذھبی اور سیاسی پارٹیوں نے ان کی حمایت بھی کی ، یہ دھرنا ایک لحاظ سے قابل تعریف بھی تھا کہ جنہوں نے ختم نبوت کے شق میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی ہیں ان کو سزا دی جاے تاکہ ائندہ کسی کو ایسی جرات نہ ہوجاے۔لیکن یہ دھرنا ایسے مقام پر تھا جہان سے روزانہ ہزاروں لوگوں کا گزر ہوتاتھا جس کی بندش سے کئی ھفتوں تک ھزاروں لوگوں کو تکلیف سہنا پڑا۔اور اس کے علاوہ شرکاء دھرنا جس انداز میں دوسروں کے خلاف زبان درازی کرتے تھے ،گالی گلوج اور بدزبانی کرنا تو عادت بن چکی تھی ،اور اس کے بعد ملکی املاک کو نقصان پہنچانا، حکومت کا اپنے عوام پر بے دریغ طاقت کا استعمال کرنا ، یقینا یہ سب تعلیمات محمدی سے دوری کا نتیجہ ہے۔ ہماری زندگی  ان تمام اوصاف سے عاری ہے جو ایک مسلمان میں   ہونا چاہے۔اس کے علاوہ وطن عزیز پاکستان میں کرپشن ،ناانصافیاں، ظلم و زیادتی   اور قتل و غارت گری اپنے عروج پر ہے  انصاف کے حصول کےلئے  کئی مہینے  یا کئی سال  عدالت کا چکر کاٹنا پڑتا ہے۔ ملک و قوم کے خدمت گزار افراد کے ساتھ سختی سے پیش اتے ہیں ،جب کوئی ان جرائم کے بارے میں بات کرے یا اواز اٹھاے تو ان کو حکومتی سرپرستی میں قید و بند کی صعوبتوں میں زندگی گزارنے مجبور کرتے ہیں ، اور ہمارے حکمراں جھوٹ بولنے کو عین سیاست سمجھتے ہیں یعنی سیاسی کھلاڑی بننے کے لئے جھوٹ بولنا لازمی ہے اور جو جھوٹ نہیں بولتے اور اپنی چالاکی نہیں دکھاتی وہ کوئی اچھا سیاست دان نہیں بن سکتا۔یہ ہمارے معاشرے میں رہنے والے سیاسی باسیوں کےکارنامے ہیں،  جنہیں دیکھ کے شرماے یہود۔اگر فرقہ پرستی پر ایک نظر کرین تو مسلم معاشرہ خاص کر وطن عزیر میں سب سے  زیادہ فرقہ واریت نظر آئین گے، آج مسلمان دنیا میں سب سے زیادہ متاثر اور تباہی کے دہانے پر پہنچے ہوے ہیں اور ایک دوسرے کے دست وگریباں ہیں ،اس کی سب سے بڑی وجہ فرقہ پرستی ہیں ۔قرآن مجید میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں "واطیعواللہ ورسولہ ولاتنازعوافتفشلو وتذھب ریحکم۔۔"(انفال 46)تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرواور جھگڑا مت کروکہ ناکام ہوجاوگے اور تمہارا بھرم ہی ختم ہوجاے گا۔ اسلام ایک امن کا دین ہے جس کارہبر اور لیڈر مجسمہ آمن پیغمبر اسلام ص کی ذات اقدس ہے،اور لفظ اسلام کا مطلب سلامتی ہے،اسلام انسانیت کو اس کا مقام دینا چاہتا ہے اور ہر فرد کی تحفظ کاضمانت فراہم کرتاہے، جبکہ آج کا مسلمان خاص کراہل ممبر حضرات اس کے برعکس عمل پیرا ہیں۔ اسلام میں فرقوں کا ہونا کوئی معیوب نہیں ہے ۔

آیۃ اللہ آصف محسنی فرماتے ہیں کہ " اس میں کوئی شک نہیں شیعہ سنی مسلمان نہ صرف فقہی فروعات میں بلکہ اعتقادات کے فرعی مسائل میں بھی اختلاف نظر رکھتے ہیں ،بلکہ مذھب اہل سنت کی اپنی اندرونی آراء میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ان میں مذاہب اربعہ شامل ہیں ۔اسی طرح مذہب تشیع میں بھی ایسے اختلافات پاے جاتے ہیں ،شیعہ اخباریوں اور اصولیوں کے درمیاں احکام شرعیہ کے استنباط کی روش اور طریقوں میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے ، لیکن ان سب کے باوجود وہ برادرانہ انداز میں باہم رہ ہے ہیں ، ایک معقول حدتک اختلاف نظر انسانی زندگی میں ترقی ،پیشرفت اور زہنی بالیدگی کا باعث ہے" یعنی اختلاف آراء کوئی عیب نہیں ہے،فکری اور نظریاتی اختلافات سے کئی باتیں سامنے آتی ہیں، جو گفت و شنید سے دورکی جاسکتی ہیں۔لیکن اصل مسلہ اپنے نظریات کو دوسروں پر زبردستی تھوپنا ، دوسروں کو اسلام کے دائرے سے خارج کرنا اور کفر کافتویٰ لگانا ہے جس سے ملک وقوم کی تباہی کے ساتھ ساتھ اسلام دشمن عناصر یہود و نصاری کو اسلام مخالف باتین کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔آج تک ہزاروں جانین فرقہ واریت کی نذر ہوچکی ہیں۔فکری میدان میں قلبی اور عملی عداوتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام مورد الزام اور بدنام ہوا۔اسی لئے ہماری سیاسی اور سماجی زندگی میں بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوے ہیں۔ یہ سب تعلیمات محمدی صلیٰ اللیہ علیہ والہ وسلم  سے دوری کی وجہ سے ہیں ۔اگر ہم اپنی حیثیت کو سیرت محمدی کی روشنی میں سمجھیں اور اس پر عمل کے لئے اٹھ کھڑ ے ہوں تو یقینا ہمارا یہ بگڑا ہو معاشرہ اصلاح کی راہ پر گامزن  اور گھر ،خاندانی نظام ، اور معاشرہ  امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ تمام مسلمانان عالم کو حقیقی معنوں میں پیغمبر اسلام ص کی سیرت پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائیں ۔

 بقلم: محمد عسکری کریمی جامعہ الکوثر اسلام آباد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲